لکھنؤ،25؍ستمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی)کی صدرمایاوتی نے جالون ضلع میں امبیڈکر کے مجسمے کی توہین کی مخالفت کر رہے لوگوں پر مبینہ لاٹھی چارج کی آج سخت مذمت کرتے ہوئے اسے ریاست کی بی جے پی حکومت کے دلت مخالف رویہ کی علامت قرار دیا ۔ مایاوتی نے یہاں ایک بیان میں کہا کہ جالون میں امبیڈکر کے مجسمہ کی توہین کئے جانے کی مخالفت میں کل مظاہرہ کر رہے لوگوں پرپولیس نے لاٹھیاں برسائی اور ان میں سے بہت سے لوگوں کو جیل بھی بھیج دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اگر بی جے پی کی حکومت کایہ رویہ نسل پرستی، سیاسی بدقسمتی نہیں ہے تو پھر اسے کس نام سے تعبیر کیا جائے ۔ مزاحمت کاروں پر لاٹھی چارج کرنے والے پولیس اورانتظامیہ افسران پر سخت کارروائی کرنے کی مانگ کرتے ہوئے مایاوتی نے کہا کہ اس قسم کے سنگین جرم کرنے والوں کے خلاف کوئی سخت کارروائی سے گریزکرنااس معاملے میں حکومت کے ملوث ہونے کابین ثبوت ہے۔ معلوم ہو کہ جالون کے کالپی کوتوالی علاقے کے کاشیکھیڑا گاؤں میں سڑک کنارے نصب امبیڈکرکے مجسمے کی شرارتی عناصر نے توہین کی تھی اس کے خلاف احتجاج میں بی ایس ایس کے کارکنوں نے تصادم آرائی کی پولیس نے کچھ عورتوں کوحراست میں لیا ہے ۔ جنہوں نے اس وقت پولیس افسر سبودھگوتم پر حملہ کیا تھا۔ بی ایس پی صدر نے کاشی ہندو یونیورسٹی میں چھیڑ چھاڑ کی مخالفت کر رہی طالبات پر پولیس کی طرف سے لاٹھی چارج کی بھی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کی بی جے پی حکومت کے غلط اورتساہل آمیز ر رویہ کی وجہ سے یونیورسٹی کیمپس میں پولیس زیادتی کے نتیجے تشدد، آگ زنی اورتشدد رونما ہوا۔اس صورت میں یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا رویہ بھی طلبہ اور طالبات کے تئیں مشفقانہ نہیں ؛ بلکہ مکمل آمرانہ ہے ۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حکومت طالب علموں کے ساتھ انصاف اور ان کی حفاظت کے مناسب انتظامات کو یقینی بنائے۔